کراچی میں عید کے دوران غیرقانونی تعمیرات، حکومتی دعوے سوالیہ نشان

کراچی (اسٹاف رپورٹر): شہر قائد میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں عید کی تعطیلات کے دوران ضلع ایسٹ کے علاقے بلاک 2، پلاٹ نمبر 866 پر مبینہ طور پر ایک پرانی عمارت پر مزید 2 سے 3 منزلیں غیرقانونی طور پر تعمیر کر دی گئیں۔

صدر مملکت کی منظوری، مسلح افواج کیلئے فوجی اعزازات کا اعلان

اطلاعات کے مطابق یہ تعمیراتی سرگرمیاں کھلے عام جاری رہیں، تاہم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری اور مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی، جس پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی غیرقانونی تعمیرات نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔

ایک طرف صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ بارشوں اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے افسران کو فیلڈ میں موجود رہنے اور حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب شہر میں غیرقانونی تعمیرات کا تسلسل حکومتی رٹ اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عمارتوں پر غیرقانونی طور پر اضافی منزلیں تعمیر کرنے سے نہ صرف ڈھانچے کی مضبوطی متاثر ہوتی ہے بلکہ کسی بھی وقت حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو قیمتی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

شہری حلقوں اور سماجی نمائندوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل SBCA مزمل حسین فوری نوٹس لیں، ڈپٹی کمشنر ایسٹ موقع پر پہنچ کر کارروائی یقینی بنائیں، غیرقانونی تعمیرات کو فوری طور پر مسمار کیا جائے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، لہٰذا حکام بالا سے فوری اور مؤثر ایکشن لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!