امریکا اور ایران میں بالواسطہ رابطے جاری، ثالث ممالک متحرک

ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس میں تیسرے ممالک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، آبنائے ہرمز پر کشیدگی بڑھ گئی

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات فی الحال معطل ہو چکے ہیں، تاہم مصر، قطر اور برطانیہ کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جس کے ذریعے سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کم از کم پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ممکنہ طور پر ایران کا ہرجانے کا مطالبہ پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم کسی حتمی پیش رفت کے لیے مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!