کراچی: شہر میں اربوں روپے کی لاگت سے نصب ہونے والے ای چالان سسٹم کی خامیوں کا بھانڈہ عدالت میں پھوٹ گیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی ایک بس کے چالان کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس میں کمپنی کی تیار کردہ بس میں حد رفتار 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہونے کے باوجود کیمروں نے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ظاہر کیا۔
وفاق نے نومبر میں ہی گورنر سندھ کی تبدیلی پر ایم کیو ایم کو آگاہ کر دیا تھا
بس اونر ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد نے وکیل منصف جان ایڈووکیٹ کے توسط سے سیکریٹری ٹرانسپورٹ، آر ٹی اے، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گاڑی اس رفتار سے زیادہ تیز چل ہی نہیں سکتی، لہٰذا ای چالان سسٹم میں واضح خامی موجود ہے۔
عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی کہ حکام کی جانب سے نصب کیمروں اور گاڑیوں کی رفتار مانیٹر کرنے والے ٹریکنگ سسٹم کی غیر جانبدار ماہرین کے ذریعے مکمل جانچ پڑتال کرائی جائے۔ عدالت نے غلط چالان جاری کرنے پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ معاملہ شہریوں کے لیے اہم ہے کیونکہ موجودہ ای چالان سسٹم کی خامیوں کے باعث غلط چالان شہریوں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں، اور شہر میں نصب سسٹم کی افادیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
