لاہور: ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کو گزشتہ سال نومبر میں آگاہ کر دیا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس نے اس حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول اور گورنر کامران ٹیسوری کو مطلع کیا تھا، تاہم گورنر کی تبدیلی کو روکنے کے لیے مختلف حلقوں کی کوششیں بے اثر رہیں اور نومبر میں فیصلہ حتمی طور پر کیا گیا۔
وزیراطلاعات عطا تارڑ: آپریشن غضب للحق میں 663 دہشتگرد ہلاک، 887 زخمی
ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کی تبدیلی کے لیے اسلام آباد میں 11 مارچ کو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر خالد مقبول کو مدعو کیا گیا لیکن وہ اس وقت کراچی میں موجود تھے۔ ایم کیو ایم ذرائع کا مؤقف ہے کہ خالد مقبول کو اجلاس میں شامل نہیں کیا گیا۔
اس معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ “بالا ہی بالا فیصلہ ہو رہا ہے اور یکطرفہ فیصلے کے بعد حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وفاق نے واضح پیغام دیا ہے کہ ٹیسوری کی اب ہماری ضرورت نہیں۔”
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر ان کی جگہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ مقرر کیا ہے، جو آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
