کراچی، 12 مارچ 2026: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ ریوینیو بورڈ (SRB) کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، چیئرمین ایس آر بی واصف میمن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
آئی جی سندھ کی انڈونیشیا کے قونصل جنرل سے ملاقات، باہمی تعلقات اور سیکیورٹی پر تبادلۂ خیال
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو فروری 2026 میں ایس آر بی کی مجموعی وصولیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق فروری میں محصولات 34.86 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ہے۔ طویل کوششوں کے بعد 9.5 ارب روپے کے واجبات بھی ریکارڈ وصول کیے گئے۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 تک مجموعی وصولی 225.653 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔
چیئرمین ایس آر بی نے اجلاس میں بتایا کہ پورٹ، ایئرپورٹ اور ٹرمینلز سے 40.2 ارب روپے، ٹیلی کمیونیکیشن سے 24.2 ارب اور بینکاری شعبے سے 20.34 ارب روپے محصولات حاصل ہوئے۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کنسلٹنسی میں 49 فیصد، گڈز ٹرانسپورٹیشن میں 50 فیصد اور انجینئرنگ کنسلٹنسی میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ فنڈز اور اثاثہ جات مینجمنٹ سیکٹر پہلی بار بڑے ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوا اور اس سے 162 فیصد اضافے کے ساتھ 5.76 ارب روپے محصولات جمع کیے گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں ٹیکس دہندگان کے لیے سہولیات کی فراہمی، ٹیکس نیٹ کے وسیع کرنے، ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت میں اضافہ پر زور دیا۔ انہوں نے ایس آر بی کو ہدایت کی کہ ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی اور نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، اور غیر دستاویزی سروس فراہم کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ سال ایس آر بی کی سالانہ وصولیاں 306.6 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29.5 فیصد اضافہ ہے۔ حکومت کی ترجیح ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھائے بغیر محصولات میں اضافہ کرنا اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے خدمات کے شعبے کی صوبائی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ محصولات میں پائیدار اضافہ بہتر حکمرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
