قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان Shahid Afridi نے کہا ہے کہ اگر فیصلے درست نہ ہوں تو کامیابی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوچ اور کپتان نہیں چاہتے کہ پاکستان آگے جائے، ہماری دعائیں بھی قبول نہیں ہو رہیں، اب مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شرعی اسکریننگ سخت، غیر شرعی قرض و سرمایہ کاری کی حد کم کردی گئی
نجی ٹی وی چینل Samaa TV کے اسپورٹس پروگرام "زور کا جوڑ” میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ سری لنکا نے میچ میں اچھا آغاز کیا تھا مگر وہ جیت نہ سکے۔ ٹیموں پر مشکل وقت آتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ دباؤ میں کون بہتر انداز میں واپسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی Mohsin Naqvi نے سرجری کی بات کی تھی مگر اب تک کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اگر کرکٹ کو درست سمت میں لے جانا ہے تو سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر Tauseef Ahmed نے کہا کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے نتائج پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ ٹیم سلیکشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ٹیم بنانے والے ذمہ دار ہیں، انہیں کنڈیشنز کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ تمام اسپنرز بھیج دیے گئے جبکہ بیٹنگ کمزور رہی، جس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ میچ میں پچ پر گیند گرِپ کر رہی تھی اور 140 کے قریب ہدف بھی حریف کے لیے مشکل ہو سکتا تھا، تاہم نیوزی لینڈ نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ میں بہتر کھیل سکتی ہے اور ان کے کپتان نے شاندار اننگز کھیلی۔
مزید گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ نہایت اہم ہوگا کیونکہ دونوں ٹیموں نے بھرپور ہوم ورک کیا ہوگا، جبکہ ہم نے اپنا ہوم ورک یہ کیا کہ فخر کو باہر بٹھا دیا۔ کبھی ایک کھلاڑی کو باہر کیا جاتا ہے کبھی دوسرے کو، نتیجہ وہی سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاداب ابھی مکمل طور پر بولنگ آل راؤنڈر کے کردار کے لیے تیار نہیں۔
شاہد آفریدی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہر بیٹھ کر تجزیے کیے جا رہے ہیں لیکن میدان کے اندر کارکردگی نظر نہیں آ رہی۔ اب دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کامیاب ہو اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرے۔
