کراچی (19 فروری 2026) سندھ میں بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورسز بورڈ نے گزشتہ 18 سال میں نوجوانوں کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وزیر جامعات سندھ، محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2008 سے اب تک 5 لاکھ 40 ہزار 758 نوجوان بورڈ میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 لاکھ 22 ہزار 701 نے فنی و پیشہ ورانہ تربیت مکمل کی اور 1 لاکھ 72 ہزار 44 نوجوان باقاعدہ روزگار سے منسلک ہو چکے ہیں۔
وزیر جامعات نے اجلاس میں کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں میں 41 فیصد مختلف اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ 2008 سے فعال ہے اور 2013 میں سندھ اسمبلی کے بل کے ذریعے باقاعدہ بورڈ کا درجہ حاصل کیا۔ ادارہ دیہی اور شہری علاقوں کے نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ وہ باعزت روزگار کے قابل بن سکیں۔
محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ 18 سے 35 سال عمر کے نوجوانوں کے لیے داخلہ اور تربیت کے لیے ہر ضلع کا علیحدہ کوٹہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، سندھ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 5 ہزار مستحق خواتین کے بچوں کو مفت تربیت فراہم کر رہی ہے۔
وزیر جامعات نے مزید بتایا کہ ہر تربیت یافتہ نوجوان کو 2,500 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے اور تربیت حاصل کرنے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کا مقصد صوبے میں بے روزگاری میں کمی، صنعتوں کے لیے افرادی قوت کی تیاری، اور نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنا کر ملکی ترقی میں حصہ دینا ہے
