کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معیار میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایس ایچ او کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کم از کم ایک سال سے کراچی میں سکونت پذیر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر میں موجود سسٹم، مافیا، سیاسی دباؤ اور مالی مفادات پولیسنگ کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔
ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کا رات گئے مختلف علاقوں میں کومبنگ اور سرچ آپریشن، مشتبہ افراد حراست میں
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ
"ہر ادارے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، چھوٹے افسران ہی نہیں بلکہ بڑے افسران بھی بعض اوقات جرائم کے پشت پناہ بن جاتے ہیں۔”
آزاد خان کا کہنا تھا کہ
"میں اپنا ایک بھی ایس ایچ او نہیں لگاؤں گا، ایس ایچ اوز کی تعیناتی کا اختیار متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کے پاس ہوگا، جبکہ ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا براہِ راست جواب بھی ایس ایس پیز سے لیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ کم سزا کی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کے درمیان واضح خلا موجود ہے، جسے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
کراچی پولیس چیف نے شہر میں منشیات کے تیزی سے پھیلاؤ کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی لعنت بڑھتے ہوئے جرائم کی بڑی وجہ بن رہی ہے اور اس کا خاتمہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ
"تفتیشی افسران کی تربیت، استعدادِ کار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آرگنائزڈ کرائم پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔”
آزاد خان نے اعلان کیا کہ پولیس کے اندر احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور
"صحیح افسر کو صحیح جگہ تعینات کیا جائے گا تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔”
