لیاقت آباد سی ایریا 32/1 کی مین شاہراہ پر واقع ایک پرانی رہائشی عمارت کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ریسٹورینٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عمارت گراؤنڈ پلس ٹو (G+2) کی رہائشی بلڈنگ ہے، جسے کمرشل ریسٹورینٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے دی ہے اور نہ ہی کوئی Change of Use منظور ہوا ہے۔
کراچی: ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کی ٹارگٹڈ کارروائی، 2 پیشہ ور اسٹریٹ کرمنلز گرفتار
علاقہ مکینوں نے بارہا حکام کو آگاہ کیا مگر متعلقہ اداروں کی خاموشی، لاپروائی اور مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد پہلے ہی تنگ گلیوں، شدید ٹریفک، پارکنگ کے فقدان اور فائر سیفٹی کے مسائل کا شکار ہے، ایسے میں رہائشی عمارت میں ریسٹورینٹ کا قیام انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات، میئر کراچی، اینٹی کرپشن، نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیا جائے، غیر قانونی تعمیرات بند کرائی جائیں اور ملوث افسران و مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ شہری سوال کر رہے ہیں کہ کیا شہر صرف طاقتور مافیا کے لیے محفوظ ہے؟

