کراچی — انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں منشیات مافیا اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف پولیس اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹر، اے آئی جیز آپریشن و ایڈمن نے بالمشافہ جبکہ زونل، ڈویژنل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز اور انویسٹی گیشن ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نے اے پلس کیٹیگری کے منشیات اور گٹکا ماوا مافیاز، تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں اور ان کے گٹھ جوڑ کے خلاف جاری پولیس کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی پولیس کی جانب سے اے پلس کیٹیگری کے منشیات و گٹکا ماوا مافیاز کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو مختلف مراحل میں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے منشیات مافیا اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی بالکل واضح ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ منشیات اور گٹکا ماوا مافیاز کے خلاف مقدمات کے اندراج میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جسے مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی جی سندھ نے غیر قانونی طور پر مقیم اور واپس جانے والے غیر ملکیوں کے ڈیٹا کی نادرا سے تصدیق کے بعد اسے محفوظ بنانے اور تمام ضلعی افسران کو دفاتر اور فیلڈ میں اپنی مؤثر موجودگی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

