اسلام آباد — صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی معاونت کر رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں براہِ راست شراکت دار بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک نہ صرف دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، جس سے علاقائی سلامتی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر عالمی رہنماؤں اور مختلف ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 33 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
