کراچی (اسٹاف رپورٹر) — آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس میں اجلاس منعقد ہوا جس میں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی تعیناتی، پیٹرولنگ اور نگرانی کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، سفیر احمد فاروق کا اعلان
اجلاس میں چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب، ایڈیشنل آئی جیز کراچی (آپریشن)، ڈی آئی جیز ہیڈکواٹر، سندھ پولیس ہائی وے پیٹرولنگ، آئی ٹی، ٹی اینڈ ٹی، فنانس، سیکورٹی اینڈ ایمرجنسی ڈویژن، ایڈمن کراچی، ٹریفک کراچی، ایسٹ، ویسٹ، ساوتھ، ڈی جی سیف سٹی اتھارٹی، این آر ٹی سی اور دیگر اے جیز نے شرکت کی۔
ڈی آئی جی سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول نے شرکاء کو صوبے کی مختلف شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر پولیس تعیناتی، کارکردگی اور دیگر اقدامات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ کے مطابق یکم جنوری 2026 سے اب تک 33 چوری و چھینی گئی گاڑیاں برآمد کی گئی ہیں جبکہ 44 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اجلاس میں شہریوں کی جانب سے غیر واضح، غیر معیاری یا آلٹر شدہ نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح پر بھی توجہ دی گئی۔ آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ شاہراہوں پر پولیس پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے اور غیر مستند نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
ڈی آئی جی سندھ پولیس ہائی وے پیٹرولنگ نے بتایا کہ ہیلپ لائن 1124 کے ذریعے شہری بروقت مدد حاصل کر سکتے ہیں، جس میں حادثات میں زخمی افراد کی ہسپتال منتقلی، فیول ختم ہونے یا گاڑی خراب ہونے کی صورت میں فوری رسپانس فراہم کیا جاتا ہے۔
آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ اے وی ایل سی چوری و چھینی گئی گاڑیوں کی تمام تفصیلات سندھ پولیس ہائی وے پیٹرولنگ کے ڈیٹا بینک میں درج کی جائیں تاکہ نگرانی اور کارروائی میں آسانی ہو۔

