کراچی (اسٹاف رپورٹر): سندھ حکومت نے سرکاری اسکولز کو انتظامی اور مالی طور پر مضبوط بنانے کی طرف اہم قدم اٹھاتے ہوئے “اسکول اسپیسفک بجٹ” کے تحت 18 ارب 63 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔
رحیم یار خان: بدنام زمانہ ڈاکو عبدالستار لولائی اور ساتھیوں نے سرنڈر کر دیا، ڈی پی او کا بیان
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکولز کو رقم جاری ہو چکی ہے اور اسکولوں میں کام کی نگرانی میں سول سوسائٹی بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کو ہدایت کی کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر اسکول کے مسائل حل کریں اور بجٹ کا استعمال شفاف انداز میں کریں۔
سید سردار علی شاہ کے مطابق اب اسکول سربراہ رپیئر اینڈ مینٹیننس، فرنیچر کی خریداری، واش فیسلٹی، اسٹیشنری اور دیگر کام خود کروا سکیں گے، جس سے اسکولوں کی کارکردگی اور سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ یہ اقدام چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی رہنمائی کے مطابق اسکولز کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکول سربراہ اپنے اسکول کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
