اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے روضہ رسول ﷺ کی زیارت کے لیے پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر بھجوانے کی تجویز دی ہے۔
مسلم لیگ (ق) میں مختلف جماعتوں کے سینکڑوں کارکنان کی شمولیت، قیادت پر اعتماد کا اظہار
شگفتہ جمانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یہ وفد پاکستانی عوام کی طرف سے روضہ رسول ﷺ پر سلام عرض کرے گا۔ کمیٹی کے مطابق وفد پہلے بھی عوام کی نمائندگی میں روضہ رسول ﷺ جا چکا ہے اور اب یہ عمل ہر سال مکہ و مدینہ منورہ میں جاری رہے گا۔ وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جا سکیں گے اور عوام کی جانب سے عمرہ ادا کیا جائے گا۔ اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی وفد کی سربراہی کریں گے۔
رکن کمیٹی اعجاز الحق کی تجویز پر وفد کی تعداد 7 کے بجائے 10 رکنی رکھنے کی منظوری دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی وفد کے ارکان نامزد کریں گے اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین وفد کی قیادت کریں گے۔
چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ اسپیکر عموماً 15، 15 ارکان کے وفد بھیجتے ہیں، اس بار پارلیمانی وفد کے تمام اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے گی۔ ارکان نے اس کی حمایت کی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان ہاؤس سعودی عرب میں مکمل ہو جانے تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں قیام فراہم کیا جائے، تاہم رشتہ داروں کے اخراجات وفد خود برداشت کرے گا۔
وفد کو اسٹیٹ گیسٹ ڈیکلیئر کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے نمائندے کو بھی طلب کیا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کمیٹی تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ وفد پاکستانی قوم کی نمائندگی میں روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرے گا۔ وزارت مذہبی امور نے بھی کہا کہ وفد کو مکہ و مدینہ میں میڈیکل اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی اور حج ڈائریکٹوریٹ جدہ ٹرانسپورٹ کا انتظام کرے گا۔
