وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں فائر سیفٹی اور ہنگامی ریسکیو سے متعلق تربیت انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل ایکارڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے صوبے بھر میں فیکٹریوں کے سروے کے اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دائرہ کار کو فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ شاپنگ پلازہ، مالز، بڑی تجارتی عمارتوں اور سرکاری و رہائشی عمارتوں تک وسعت دی جانی چاہیے۔
یہ بات انہوں نے پیر کے روز انٹرنیشنل ایکارڈ فاؤنڈیشن کے وفد سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت آئی اے ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جورش اولڈنزیل کر رہے تھے۔ وفد میں آئی اے ایف کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن و نائب صدر کوآپریٹ رسپونسبلیٹی امریکن ایگل آؤٹ فٹرز مائیکل ٹیری، چیف کمپلائنٹ آفیسر کرسٹن مارگریٹ ڈریو اور پاکستان ایکارڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر و کنٹری ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ سمیت دیگر نمائندے بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو انٹرنیشنل ایکارڈ فاؤنڈیشن کے تحت پاکستان بالخصوص سندھ میں اب تک کی جانے والی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کے تحت صوبے بھر میں 144 مختلف عالمی برانڈز سے معاہدے کیے گئے ہیں، جبکہ صرف کراچی میں اب تک 330 سے زائد فیکٹریوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے، جہاں فائر سیفٹی، ریسکیو اور جان بچانے سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا کہ ان میں اکثریت ٹیکسٹائل اور گارمنٹس فیکٹریوں کی ہے۔
وفد کے سربراہ جورش اولڈنزیل نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے فاؤنڈیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ اس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے تاکہ بڑے شاپنگ سینٹرز، سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی اور ہنگامی ریسکیو کے مؤثر انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
سعید غنی نے کہا کہ آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، درست ریسکیو اقدامات اور حفاظتی تربیت قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس شعبے میں آگاہی اور تربیت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو یقین دلایا کہ ان کی ہدایات کی روشنی میں فاؤنڈیشن اپنی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
