گل پلازہ آتشزدگی: وزیراعلیٰ سندھ کا متاثرین کی فوری بحالی، نئی عمارت کی تعمیر اور فارنزک تحقیقات کا اعلان

گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران، میئر کراچی اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شاہ لطیف میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز میں مقابلہ، 2 ملزمان زخمی، ایک گرفتار

اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مشیر برائے بحالی گیانچند اسرانی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو اور مختلف تاجر رہنما شریک تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور سینکڑوں خاندان راتوں رات بے روزگار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جانی نقصان سے کئی گھرانے شدید صدمے سے دوچار ہیں، جبکہ کاروبار تباہ ہونے سے متاثرین کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں، جس کا مطلب ہے کہ کم از کم 1200 خاندان اس سانحے سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت تمام متاثرین کی مکمل بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے گی اور کسی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

اجلاس میں کمشنر کراچی حسن نقوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 14 نعشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے زائد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فوری طور پر ملبہ اٹھانے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ بحالی اور ریسکیو کے کام میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آگ بجھانے کے عمل میں 16 فائر ٹینڈرز اور باؤزر استعمال کیے گئے جبکہ 50 سے 60 فائر فائٹرز نے مسلسل ڈیوٹی انجام دی۔ انہوں نے بتایا کہ واٹر بورڈ کی جانب سے 4 لاکھ 31 ہزار گیلن پانی فراہم کیا گیا۔

مشیر برائے بحالی گیانچند اسرانی نے بریفنگ میں بتایا کہ گل پلازہ میں آگ رات 10 بج کر 36 منٹ پر لگی، یہ عمارت تقریباً 8000 اسکوائر گز پر مشتمل تھی اور اس میں 1200 دکانیں قائم تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے 6 منٹ میں اپنی ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچا دیں، جبکہ کے ایم سی اور نیوی کی مجموعی طور پر 24 فائر اور ریسکیو گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔

اجلاس میں تاجر نمائندوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو تجاویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دکانداروں کو فوری طور پر متبادل دکانیں فراہم کی جائیں تاکہ ان کا روزگار بحال ہو سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تاجروں کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گل پلازہ کی عمارت دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو معاوضے کی رقم، متاثرین کی بحالی اور فوری کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل فارنزک تحقیقات کروائی جائیں گی اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی چیف سیکریٹری نوٹیفائی کریں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ واقعے میں ایک فائر فائٹر دورانِ ڈیوٹی شہید ہوا، جن کے والد بھی فائر فائٹر تھے اور وہ بھی اسی طرح شہید ہو چکے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہداء کے خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے گھروں میں جا کر تعزیت کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پارٹی قیادت کی ہدایت ہے کہ گل پلازہ کے متاثرین کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ کے لیے فائر سیفٹی، ایمرجنسی راستوں اور حفاظتی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر کے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

57 / 100 SEO Score

One thought on “گل پلازہ آتشزدگی: وزیراعلیٰ سندھ کا متاثرین کی فوری بحالی، نئی عمارت کی تعمیر اور فارنزک تحقیقات کا اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!