کراچی / 18 جنوری — امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اتوار کی شب خصوصی طور پر کراچی آمد کے موقع پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو 23 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے، مگر تاحال آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا، جو انتہائی افسوسناک اور مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے۔
گل پلازہ آتشزدگی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی آمد، متاثرین کا احتجاج اور نعرے بازی
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ شہر مسلسل سانحات کی زد میں ہے، کہیں لوگ آگ میں جلتے ہیں، کہیں بچے گٹروں میں گرتے ہیں اور کہیں ٹرالرز تلے کچلے جاتے ہیں، مگر نہ شہر کا کوئی پرسانِ حال ہے اور نہ صوبے کا کوئی والی وارث۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی ذمہ داری براہِ راست قابض میئر، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی ہر سطح پر اقتدار میں موجود ہے، تو پھر ذمہ دار کون ہے؟
انہوں نے کہا کہ 22 گھنٹے بعد محض رسمی دورے کر کے ہاتھ ہلا کر چلے جانا اور بعد ازاں پریزنٹیشنز کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنا اب نہیں چلے گا۔ یہ حکومت صرف انہی لوگوں کو دھوکہ دے سکتی ہے جنہوں نے اسے مسلط کیا ہے۔ ہم خاموش تماشائی بن کر اپنے بچوں کو مزید مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کوئی معجزہ کر دے اور عمارت میں پھنسے افراد بحفاظت باہر آ جائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ یہ معاملہ محض معاوضوں کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی جلد کراچی کے عوام کو مافیاز کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی کال دے گی اور اس شہر میں یہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام اب نہیں چلنے دیا جائے گا۔
اس موقع پر امیر کراچی منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، مرکزی سیکریٹری اطلاعات شکیل ترابی، امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے کھاتوں میں کرپشن بھری ہوئی ہے، انسپکٹر سے لے کر اعلیٰ سطح تک پیسہ چلتا ہے اور پورا نظام زرداری ہاؤس تک جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگز اور تاجروں کو تسلیاں دی جا رہی ہیں، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ کل ونڈر بوائے بننے کی خوشی میں جو پریزنٹیشنز دی گئیں، ایسا تاثر دیا گیا جیسے کراچی کو سوئٹزرلینڈ بنا دیا گیا ہو۔ بلاول بھٹو زرداری بتائیں کہ گزشتہ 17 برس سے ان کی جماعت اور حکومت نے اس شہر کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کا حساب کون دے گا؟
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ اب تک 6 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 58 کے قریب افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ماؤں اور خاندانوں پر کیا گزر رہی ہوگی جنہوں نے اپنے پیاروں کی آخری آوازیں موبائل فون پر سنیں اور پھر رابطہ منقطع ہو گیا۔
انہوں نے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان کے سینوں میں دل نہیں، انہیں عوام کے دکھ، آنسو اور تکلیف کا کوئی احساس نہیں۔ ان کی ترجیح صرف عیاشیاں، کرپشن اور لوٹ مار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ SBCA کس مرض کی دوا ہے؟ اتنے بلڈنگ کوڈز موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کون کروائے گا؟ عمارتوں میں فائر ایکسٹنگوشر، فائر ایگزٹ اور سیفٹی سیڑھیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قانون کے مطابق ہر ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں فائر اسٹیشن ہونا چاہیے، مگر نہ بروقت فائر بریگیڈ پہنچی، نہ پانی تھا اور نہ گاڑیوں میں ڈیزل۔ انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز کو محض ٹوپی اور جوتے دے کر یہ سمجھ لیا گیا کہ مکمل حفاظتی سامان فراہم کر دیا گیا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
