اسلام آباد: سوشل میڈیا پر ایف آئی اے امیگریشن کی کارکردگی سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیوں کے تناظر میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے راجہ رفعت مختار نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
بینکنگ کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، باری ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹرز کے گھروں پر چھاپے
ڈی جی ایف آئی اے کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روزانہ 94 بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت ہوتی ہے جبکہ یومیہ 10 ہزار سے زائد بین الاقوامی مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق مصروف اوقات میں متعدد پروازوں کی بیک وقت آمد کے باعث عارضی ہجوم پیدا ہو جاتا ہے۔
ایف آئی اے حکام نے آگاہ کیا کہ 13 جنوری کو صرف ایک گھنٹے کے دوران 2 ہزار 400 مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر ایک گھنٹے میں اوسطاً 4 مسافر فی منٹ کلیئر کیے جاتے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن تین شفٹوں میں کام کر رہی ہے، جہاں روانگی کے لیے 15 اور آمد کے لیے 13 امیگریشن کاؤنٹرز فعال ہیں۔ موسمی حالات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث پروازوں میں تاخیر بھی بعض اوقات ہجوم کا سبب بنتی ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب، مرحلہ وار ای گیٹس کے نفاذ، ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید برآں مسافروں کی رہنمائی کے لیے کیو اسٹاف کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا گیا تاکہ امیگریشن کے عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔
