وزیرِ اطلاعات نے تشکر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ نے سرکاری تحائف کی کم قیمت ظاہر کر کے انہیں ذاتی استعمال میں رکھا، جو واضح طور پر دھوکہ دہی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی ہے۔
Saturday, 20th December 2025
وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ ٹرائل کے دوران جب تحائف کی اصل اور درست قیمت کا تعین کیا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان کی مالیت کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ تحائف کی کم قیمت ظاہر کرنا اور انہیں اپنے پاس رکھنا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، جس کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عہدے کے ناجائز استعمال، سرکاری املاک کے ساتھ بددیانتی اور امانت میں خیانت کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں اور یہ فیصلہ مکمل طور پر منصفانہ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے اور اس میں کسی قسم کا سیاسی پہلو شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی پر سزا ایک فطری عمل ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق 15 سے 16 ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل کے دوران یہ ثابت ہوا کہ تحائف کی کم قیمت ظاہر کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
ادھر وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ فیصلہ طویل قانونی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے اور یہ کیس توشہ خانہ ون ریفرنس سے مماثلت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کو ملنے والا تحفہ مقررہ قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں جمع کرانا قانونی طور پر لازم تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس قیمتی سیٹ کو انتہائی کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی، تاہم آج کے فیصلے کے بعد تمام حقائق واضح ہو چکے ہیں۔
