صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر کتاب سے رشتہ ٹوٹ گیا تو ہم اندھیروں میں چلنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کو دوبارہ کتب کی طرف لے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مطالعہ چھوڑنا دراصل سوچ کو قید کرنے کے برابر ہے۔
سندھ میں 715 خطرناک عمارات کی فہرست جاری، مکینوں کو مرحلہ وار خالی کرانے کا عمل جاری
سردار علی شاہ نے واضح کیا کہ اے آئی کسی صورت کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتی کیونکہ مصنوعی ذہانت کی معلومات ماضی پر مبنی ہوتی ہیں، جبکہ انسان کو علم کا سفر جاری رکھنا ضروری ہے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ کتاب صرف صفحات نہیں، بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ تھوڑا سا مطالعہ بھی بڑے فرق کی شروعات ہو سکتا ہے اور کتاب دوستی بن جائے تو راستے خود بخود بنتے ہیں۔
سردار علی شاہ نے سندھ حکومت کے اقدامات بھی بیان کیے اور کہا کہ اسکول سطح پر مطالعے کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں اور ہر اسکول میں بک کارنر قائم کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے پیپر پر لگے بیجا ٹیکس کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اس سے نہ صرف کتابوں کی انڈسٹری بلکہ مطالعے کا رجحان بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ پیپر پر ٹیکس کم کیا جائے تاکہ اس کا فائدہ براہِ راست قوم کو پہنچے۔
