وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سندھ پولیس میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی سے امن و امان میں نمایاں بہتری کا اعلان

وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان نیوی کے 55ویں پی این اسٹاف کورس اور 23ویں کوریسپونڈنس اسٹاف کورس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے سندھ پولیس میں وسیع تر اصلاحات اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کا اعلان کیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا عالمی یومِ مہاجرین پر خصوصی پیغام

تقریب میں پاکستان نیوی کے افسران کی قیادت ریئر ایڈمرل سہیل احمد عظمی، کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج اور کمانڈر سینٹرل پنجاب کر رہے تھے، جبکہ صوبائی وزرا، انسپکٹر جنرل پولیس اور صوبائی سیکریٹریز بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس اس وقت ایک لاکھ 62 ہزار اہلکاروں، 31 اضلاع اور 618 پولیس اسٹیشنز پر مشتمل ہے جبکہ پولیس کا مجموعی بجٹ تقریباً 190 ارب روپے ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق فرض کی ادائیگی کے دوران 2,553 پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کو ڈھانچے، آپریشنز اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ پولیس اسٹیشنز کی تزئین و آرائش، اپ گریڈیشن اور مالی خودمختاری سے پولیسنگ کے نظام میں بہتری آئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کو ڈی ڈی اوز کے اختیارات دیے گئے ہیں، پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کو فرانزک ڈی این اے، کیمیکل اور عدالتی نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا اور ججز کو مقدمات کی پیش رفت آن لائن دیکھنے کی سہولت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم اور مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں نے سینکڑوں ملزمان کی گرفتاری میں مدد دی ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی کے لیے جدید سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ اوپن سورس انٹیلی جنس، بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کارروائیاں مزید مؤثر ہو گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ہوٹل آئی مینجمنٹ، ایمپلائی ویری فکیشن اور تلاش ڈیوائس کے ذریعے ہزاروں جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ گشت اور ٹریفک پولیس کے لیے باڈی وورن کیمرے متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ نے بین الاقوامی کرکٹ اور ہائی رسک ایونٹس کی مؤثر سیکیورٹی فراہم کی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری 2024 سے نومبر 2025 کے دوران اسٹریٹ کرائم میں 44 فیصد سے زائد کمی جبکہ ڈکیتی کے دوران اموات اور زخمیوں میں 60 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کچے کے علاقوں میں حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جارحانہ کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سکھر، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور میں سیکڑوں ڈاکو ہلاک، گرفتار یا زخمی ہوئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ منظم جرائم اور منشیات کے خلاف مہم میں ٹاپ کیٹیگری منشیات فروشوں کی 89 فیصد گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو مالی امداد، تنخواہیں، روزگار، صحت انشورنس اور بچوں کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے تحت 12 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے قومی ڈیٹا بیس سے منسلک کیے جائیں گے جبکہ عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ سے جرائم کی روک تھام مزید مؤثر ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت جدید، عوام دوست اور ٹیکنالوجی سے لیس پولیس فورس کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سندھ پولیس میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی سے امن و امان میں نمایاں بہتری کا اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!