کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت سی ایم ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کابینہ کمیٹی برائے خزانہ سمیت متعدد اہم پالیسی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں عوامی فلاح، گورننس، انفراسٹرکچر، کھیل، تعلیم، توانائی اور مالی نظم و ضبط سے متعلق کئی بڑے فیصلے کیے گئے۔
کرسمس کے موقع پر کراچی میں فول پروف سیکیورٹی پلان، ایڈیشنل آئی جی کراچی کی زیرِ صدارت اجلاس
کابینہ کو وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات سے آگاہ کیا، جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں کی خریداری کی مد میں 964.4 ملین روپے کی منظوری دی، جبکہ عوامی آگاہی کے لیے دستاویزی فلموں کی تیاری پر ایک ارب روپے خرچ کرنے کی اجازت دی گئی۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے اسکواش چیمپئن شپ ایسوسی ایشن گولڈ کپ کے لیے 56 ملین روپے اور ویٹرن کرکٹ ایسوسی ایشن ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے 50 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ یہ فنڈز پہلے سے مختص تھے جنہیں دوبارہ استعمال میں لایا گیا ہے۔
کابینہ نے اسلام کوٹ کے علاقے پریم نگر میں خصوصی یتیم خانہ (ایس او ایس) کے قیام کے لیے 329 ملین روپے، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج خانپور شکارپور کے لیے 187.8 ملین روپے اور ملیر واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 103.9 ملین روپے کی منظوری دی۔ کورنگی کازوے سے قبرستان اور پارک تک رسائی کے لیے 349.2 ملین روپے کی لاگت سے ریمپ تعمیر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں اسلام کوٹ تا چھوڑ اور بن قاسم تا پورٹ قاسم ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 105 کلومیٹر اور 9 کلومیٹر طویل ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 90 ارب روپے ہے، جس میں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت پچاس، پچاس فیصد حصہ ڈالیں گی۔ کابینہ نے اس منصوبے کے لیے فوری طور پر 6.6 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے انٹرنل آڈٹ ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری دیتے ہوئے چیف انٹرنل آڈٹ آفیسرز کے کیڈر کے قیام کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد مالی شفافیت اور گورننس کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم 2024 کی منظوری دی گئی، جو یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین پر لاگو ہوگی۔
اجلاس میں گندم کی ریلیز پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے 100 کلوگرام گندم کی بوری کی قیمت 9,500 روپے سے کم کر کے 8,000 روپے مقرر کر دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں استحکام اور عوام کو آٹے کی مناسب قیمت کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
کابینہ نے تھر کول اینڈ انرجی بورڈ ترمیمی بل 2025، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ کی مدت میں توسیع، جیلوں کے لیے وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم، ہیومن رائٹس کمیشن میں عدالتی اراکین کی تقرری اور کراچی میں آئی ٹی ٹاور کے قیام کے لیے تاریخی عمارت کی خریداری کی بھی منظوری دے دی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے کی ترقی، عوامی فلاح اور مالی نظم و ضبط کے لیے جامع اصلاحات اور منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔
