کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے گارڈن کے علاقے میں ڈمپر کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد سماجی کارکن عبدالقادر کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔
شارعِ فیصل پر ایسٹ تھانہ پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ، دو ملزمان گرفتار، ایک زخمی
عدالت نے درخواست گزار کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 10 روزہ حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر ٹرائل کورٹ میں پیش ہوں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر درخواست گزار مقررہ وقت میں پیش نہ ہوئے تو ضمانت ضبط کر لی جائے گی۔
دورانِ سماعت ملزم کے وکیل سلمان مجاہد بلوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار بے گناہ ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق عبدالقادر کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا بلکہ مدعی نے بعد ازاں دفعہ 161 سی آر پی سی کے تحت دیے گئے اضافی بیان میں ان کا نام ظاہر کیا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ تھانہ گارڈن میں درج کیا گیا تھا، جو ڈمپر حادثے کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی سے متعلق ہے۔
