میڈیا پر جاری تبصروں میں وزیرِمملکت طلال چوہدری نے اپوزیشن جماعت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی مسلسل سیاسی مفادات کے حصول کے لیے فوج اور اس کی قیادت کو ہدف بناتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے واضح اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کر رہی، لیکن اس کے باوجود ’’آپ بار بار اپنی سیاسی مہم کو آگے بڑھانے اور اقتدار کے لیے سہارا ڈھونڈنے کی غرض سے فوج اور اس کے سربراہ کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔
شریف خاندان کی اہم مشاورت پی ٹی آئی کی ممکنہ حکمتِ عملی اور حکومتی ردعمل پر غور
طلال چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کی قیادت فوج پر غیر ضروری اور غیر منصفانہ الزامات عائد کرتی ہے، حالانکہ یہ ادارہ ملک کی خدمت کر رہا ہے۔ انہوں نے فخر سے یاد دلایا کہ فوج نے حال ہی میں ’’دنیا کی ایک بڑی طاقت کو شکست‘‘ دی—جس سے ان کا اشارہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جھڑپوں کی جانب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج اپنے شہداء، اپنی کامیابیوں اور پاکستان کے تحفظ پر فخر کرتی ہے، مگر اپوزیشن بلا جواز فوجی قیادت پر تنقید کرتی ہے۔ ’’ادارہ کب تک خاموش رہتا؟ آخر کار اسے جواب دینا پڑا۔ پی ٹی آئی نے فوج کو وضاحت پر مجبور کیا،‘‘ وزیرِمملکت نے کہا۔
طلال چوہدری کا یہ بیان ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پی ٹی آئی پر بڑھتی ہوئی تنقید کا تازہ اظہار ہے، جو 5 دسمبر کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی سخت مؤقف پر مبنی پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس پریس کانفرنس میں فوج کے ترجمان نے قید میں موجود پی ٹی آئی بانی عمران خان پر ’’فوج مخالف بیانیہ تشکیل دینے اور اسے پھیلانے‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
پریس کانفرنس اس بیان کے فوراً بعد ہوئی جو عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے گزشتہ ہفتے جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس سے قبل کئی ہفتوں تک عمران خان تک رسائی محدود تھی، جس کے بعد یہ تازہ ترین ردعمل سامنے آیا۔
