الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر کو پاکستان تحریکِ انصاف کا چیئرمین تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات اتوار کے روز کمیشن کی جانب سے جاری کردہ خط کے ذریعے سامنے آئی، جو 26 نومبر کو بیرسٹر گوہر کے نام تحریر کیا گیا تھا۔
طلال چوہدری کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید فوج کو بار بار سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے
خط کے مطابق بیرسٹر گوہر نے 13 نومبر کو کمیشن کو ایک درخواست دی تھی، جس میں اُن سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا حوالہ تھا جو طویل تاخیر کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی سے جولائی میں ایوانِ بالا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ خط میں درخواست کی مکمل تفصیل درج نہیں، لیکن بظاہر بیرسٹر گوہر نے ان سینیٹرز کو باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل کرنے کی استدعا کی تھی۔
الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تاحال زیر التوا ہے، کیونکہ پارٹی نے لاہور ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر رکھا ہے۔ ان حالات میں کمیشن بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ ’’آپ کی حیثیت قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں بنتی۔‘‘
پی ٹی آئی اب تک تین مرتبہ انٹرا پارٹی انتخابات کرا چکی ہے۔ کمیشن نے ابتدائی دو انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا، جبکہ تیسرے انتخاب کے بعد پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے کمیشن کو مزید کارروائی یا حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا تھا۔
ہفتے کے روز اپنی پریس کانفرنس میں بھی بیرسٹر گوہر نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ 3 مارچ 2024 کو ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق تمام دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئیں، مگر کمیشن نے ان کی کوئی تسلیم شدگی ظاہر نہیں کی۔ "آج پہلی مرتبہ مجھے کمیشن کا باضابطہ خط ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو نہیں مانتے‘۔”
انہوں نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے یہ مؤقف افسوس ناک ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتا۔
