ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض مُلا کے خلاف سنگین الزامات — وزیرِاعلیٰ سندھ کی خاموشی پر سوالات

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (ABAD) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک اہم خط لکھ کر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ ویسٹ ریاض حسین مُلا کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں، مگر ابھی تک سندھ حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے پر شدید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

حکام کی مبینہ پشت پناہی — کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟

ذرائع کے مطابق ریاض مُلا کو ڈی جی ایس بی سی اے مظمل حسین کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جس کے باعث نہ تو اب تک افسر کو معطل کیا گیا ہے اور نہ ہی باضابطہ انکوائری کا آغاز ہو سکا ہے۔

افسر کی مبینہ سرپرستی نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے اور یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ سندھ حکومت دانستہ طور پر معاملے کو نظرانداز کر رہی ہے۔

ABAD کا خط — بلیک میلنگ، غیر قانونی مطالبات اور ہراسانی کے الزامات

4 دسمبر 2025 کو لکھے گئے ABAD کے خط میں کہا گیا ہے کہ:

•ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض مُلا مبینہ طور پر بلڈرز سے بلیک میلنگ اور غیر قانونی مطالبات کرتے رہے ہیں۔

•متعدد بلڈرز نے تحریری شکایات میں الزام لگایا کہ افسر گالی گلوچ اور ہراسانی کے واقعات میں بھی ملوث ہے۔

•ان اقدامات کے باعث بلڈنگ اور کنسٹریکشن سیکٹر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور سندھ حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ABAD نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کے احکامات جاری کیے جائیں اور معاملہ مکمل ہونے تک ریاض مُلا کو معطل کیا جائے تاکہ وہ تحقیقات پر اثرانداز نہ ہو سکیں۔

ڈسٹرکٹ ویسٹ میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا “سسٹم” چلنے کے انکشافات

ذرائع کے مطابق ریاض مُلا گزشتہ آٹھ برس سے زائد عرصہ سے ضلع غربی اور اورنگی ٹاؤن میں تعینات ہیں اور اسی دوران پورے علاقے میں:

•غیر قانونی تعمیرات،

•بال رومز،

•بینکوئٹ ہالز اور

•پیٹرول پمپس

کی تعمیرات مبینہ طور پر اُن کی سرپرستی میں جاری رہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں ماہانہ کروڑوں روپے کا مبینہ بھتہ سسٹم چلایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف غیر قانونی تعمیرات جاری رہتی ہیں بلکہ پورا علاقہ ایک منظم نیٹ ورک کے زیرِ اثر سمجھا جاتا ہے۔

کیا وزیراعلیٰ سندھ کارروائی کریں گے؟

سندھ کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ:

•سی ایم سندھ مراد علی شاہ

•صوبائی وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ

•اور ڈی جی ایس بی سی اے مظمل حسین

آخر کیوں اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟

ABAD کی جانب سے باقاعدہ شکایات درج کرائے جانے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہ ہونا حکومت کی گورننس اور احتساب کے دعوؤں پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

صورتحال سنگین، بلڈرز شدت سے پریشان

بلڈرز کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ریاض مُلا کے خلاف سنگین ثبوت موجود ہونے کے باوجود اس کی پوزیشن برقرار رکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کا پورا نظام مضبوط تحفظ میں ہے۔

1 2 f9fee323 ae02 420b 8e22 2f3520584115 eaa725f0 5f09 4b99 b911 f5c19fc91253 a6760315 f0af 4bc3 85fd 5616c7d46822 09ace18c 4bba 4e9e 996b 9b9bf77d1b68 0ddd3d85 7a34 4871 9561 d4cc23c94182 48aac7da d4e2 4aec 997e 442b2a476ae6

WhatsApp Image 2025 12 07 at 8.31.19 PM WhatsApp Image 2025 12 07 at 8.31.19 PM 1

One thought on “ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض مُلا کے خلاف سنگین الزامات — وزیرِاعلیٰ سندھ کی خاموشی پر سوالات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!