اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے متعلق جو قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سی ڈی ایف کا عہدہ حساس اور قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے رولز اور ریگولیشنز کو احتیاط کے ساتھ فریم کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا بیان: پیوٹن یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، دنیا بھر میں جنگیں رکوا رہا ہوں
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کو کسی سیاسی یا ذاتی معاملے سے جوڑنا مناسب نہیں اور قومی سلامتی کے معاملات میں بیرون ملک سے پروپیگنڈا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سکیورٹی اداروں کے بارے میں بیرونی ممالک میں نفرت انگیز مواد پھیلانے سے روک تھام کی جائے، کیونکہ قانون کسی بھی طرح کے قومی سلامتی سے متعلق پروپیگنڈا کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ اگر وہ نیشنل سکیورٹی کے راستے میں رکاوٹ بنے یا دہشت گردی کے آپریشن میں سہولت فراہم کریں تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہوگا۔ تاہم، اگر وہ صرف تقریروں یا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک محدود رہیں تو اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی کے حقوق کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو بی کلاس سہولیات ان کے پروٹوکول کے مطابق دی جائیں گی، اور کسی بھی قسم کے اقدامات سے سابق وزیراعظم کی عزت میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ اسی دسمبر میں متوقع ہے اور سزا کے بارے میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔
