کراچی (اسٹاف رپورٹر) ناظم آباد کے شہریوں نے پانی کے سنگین بحران پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ مسئلہ کسی تکنیکی خرابی یا قدرتی قلت کا نہیں بلکہ واٹر بورڈ کے اندر موجود ایک منظم مافیا کی دانستہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کو پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم کر رکھا ہے۔
میئر کراچی کی نیپا حادثے میں جاں بحق نوجوان کے گھر آمد، لواحقین سے تعزیت
شہریوں کا کہنا ہے کہ ناظم آباد کراچی کی پہلی سرکاری رہائشی اسکیم تھی، جسے تعلیم یافتہ، مہذب اور ذمہ دار شہریوں کے لیے ماڈل آبادی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ آج ناظم آباد نمبر 3، 4 اور 5 کی آبادی 18 لاکھ نفوس تک پہنچ چکی ہے، مگر اس پوری آبادی کو پانی مافیا نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دھابیجی سے گلشن تک آنے والی سپلائی جو براہِ راست ناظم آباد کے لیے مخصوص ہے، وہ واٹر بورڈ کے چند افسران اور ٹینکر مافیا کے گٹھ جوڑ کی نذر ہو چکی ہے۔ شہریوں نے خاص طور پر تنویر شیخ (سینئر ایگزیکٹو انجینئر SE)، رضوان احسن (اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر AEE)، طارق (AEE) اور ملازم زاہد عرف گنجا کو اس مبینہ غیرقانونی نیٹ ورک کے مرکزی کردار قرار دیا ہے، جو ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کو ترجیحی بنیادوں پر پانی فراہم کرتے ہیں جبکہ ناظم آباد کے گھروں کو انتہائی کم پریشر کے ساتھ صرف چند گھنٹے پانی دیا جاتا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق سپلائی لائن میں پانی رات 9 بجے پہنچ جاتا ہے لیکن گھروں تک والو رات 1 سے 2 بجے کے درمیان کھولا جاتا ہے تاکہ پہلے ہائیڈرنٹس کو مکمل پریشر دیا جا سکے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ رات 4 بجے ہی سپلائی بند کر دی جاتی ہے، جس کے باعث پاپوش نگر، اشرف نگر، چاندنی چوک، علامہ اقبال ٹاؤن، ناظم آباد نمبر 3، 4 اور 5 کے مکین شدید اذیت کا شکار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سخی حسن اور میٹرک بورڈ پمپنگ اسٹیشن کے اہم والو بھی مبینہ طور پر طارق AEE اور زاہد عرف گنجا کی مرضی سے چلائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے باقاعدہ سرکاری شیڈول ہونے کے باوجود کئی علاقوں میں پانی 12 گھنٹے کی بجائے 2 سے 3 موٹروں پر ٹوٹے ہوئے پریشر کے ساتھ فراہم کیا جا رہا ہے۔ حب ڈیم کی سپلائی جان بوجھ کر 20 سے 25 دن تاخیر سے دی جاتی ہے جبکہ گریویٹی لائنیں مسلسل خراب حالت میں رکھی جاتی ہیں تاکہ شہری ٹینکر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور رہیں۔
شہری حلقوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ افسران کے پیچھے طاقتور بااثر عناصر موجود ہیں جو انہیں مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اسی لیے واٹر بورڈ کا کوئی بھی اہلکار ان کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرتا۔
ناظم آباد کے عوام نے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، مشیرِ حکومت ڈاکٹر عاصم، سینیٹر مسرور احسن، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی، اور ارکانِ اسمبلی طحہٰ احمد (PS-128)، حافظ نعیم، احمد سلیم صدیقی اور فرحان چشتی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے اندر موجود اس منظم کرپشن کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے، ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز کا مکمل آڈٹ ہو، افسران کے مالی معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، اور عوام کو وہ پانی فراہم کیا جائے جو ان کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔
شہریوں نے واضح کیا کہ مزید خاموشی ممکن نہیں — اب انصاف کا وقت ہے۔
