اسلام آباد: گرفتار دہشتگرد ساجد اللہ عرف شینا کے بیان کے مطابق اسلام آباد جی الیون کچہری پر خودکش حملے کی مکمل منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔
بیان کے مطابق ساجد اللہ سب سے پہلے کنڑ، افغانستان گیا، جہاں اس کی ملاقات حمزہ سے ہوئی اور ایک مہینے تک کنڑ میں رہ کر دہشتگردانہ تربیت مکمل کی۔ اس کے بعد وہ پاکستان واپس آیا۔ دہشتگرد داداللہ، جو تحریک طالبان افغانستان کا کمانڈر تھا، نے ساجد اللہ اور محمد زالی کو تربیت دی اور حملے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ہدایات دیں۔
بعد ازاں دونوں نے جلال آباد اور کابل کا دورہ کیا، جہاں داداللہ کے ساتھ رابطے کیے گئے اور حملے کے لیے خودکش جیکٹ استعمال کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
واپس پاکستان پہنچنے پر ساجد اللہ نے اخون بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ اٹھائی اور اسلام آباد پہنچا کر ایک نالے میں چھپا دی۔ اس کے بعد حملہ آور کو شاہ منیر اور اس کے بیٹے محمد زالی کے ساتھ مل کر خودکش جیکٹ پہنائی گئی۔
حملہ آور موٹر بائیک پر جی الیون کچہری کی طرف روانہ ہوا، لیکن مضبوط سکیورٹی انتظامات کے سبب اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
یہ بیان نہ صرف کچہری حملے کے نیٹ ورک اور منصوبہ بندی کے افغانستان سے تعلق کو واضح کرتا ہے بلکہ دہشتگردوں کے بین الاقوامی رابطوں کی تصدیق بھی کرتا ہے۔
