قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس: منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور سائبر کرائم پر سخت ایکشن کا فیصلہ

کراچی: قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کراچی میں چیئرپرسن فریال تالپور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، ایڈیشنل آئی جیز، کمشنر کراچی اور دیگر متعلقہ افسران نے شریک ہو کر چھ ایجنڈاز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ملیر سٹی پولیس کی کارروائی: 31 کلو گٹکا ماوا ضبط، رکشہ ڈرائیور گرفتار

اجلاس کے ایجنڈاز میں گرفتار منشیات فروشوں کے کیسز، فارنزک لیب، کیمیکل زدہ دودھ کی تفتیش، قبضہ مافیا، سائبر کرائم یونٹ اور کچہ ایریاز میں آپریشنز شامل تھے۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف 9810 ایف آئی آرز کے تحت 12,623 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ فریال تالپور نے کہا کہ "منشیات ایک لعنت ہے جس سے ہمارے بچے تباہ ہو رہے ہیں” اور منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور سخت ترین کریک ڈاؤن جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ سندھ پولیس، ایکسائز اور اے این ایف کے اشتراک سے جوائنٹ آپریشن جاری ہے اور داخلی و خارجی چیکنگ کے لیے تینوں ادارے فعال ہیں۔

اجلاس میں قبضہ مافیا اور زمین پر ناجائز قبضہ روکنے کے اقدامات، کچہ ایریاز میں جاری آپریشنز اور صوبائی سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔ فریال تالپور نے وفاقی حکومت سے رابطے کے لیے خطوط و رپورٹس طلب کیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ کی تمام شاہراہوں سے کانوائے سسٹم ختم ہوچکا ہے، اغواء برائے تاوان کی شرح زیرو ہے، اور ہنی ٹریپ کے چار کیسز سامنے آئے ہیں۔ سرینڈر پالیسی کے تحت 71 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کیا ہے۔ خاص طور پر گھوٹکی، لاڑکانہ اور سکھر کے آپریشنز پر زور دیا گیا، جہاں نوجوان افسران نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اجلاس میں ارکانِ صوبائی اسمبلی، کمیٹی ممبران، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری ایکسائز و قانون، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز اور تمام ڈی آئی جیز کی موجودگی رہی۔

One thought on “قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس: منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور سائبر کرائم پر سخت ایکشن کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!