بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور اداکار اور شائقین کے دلوں پر راج کرنے والے دھرمیندر طویل علالت کے بعد ممبئی میں انتقال کرگئے۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے مختلف صحت کے مسائل، خصوصاً سانس کی تکالیف میں مبتلا تھے اور رواں ماہ کے آغاز میں ہسپتال میں داخل بھی رہے۔
امریکا کا ایگزم بینک ریکوڈِک منصوبے کے لیے پاکستان کو 1.25 ارب ڈالر قرض دے گا عالمی سپلائی چین مضبوط بنانے کا منصوبہ
دھرمیندر نے 60 سالہ فلمی کیریئر میں 300 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں ’شولے‘، ’سیتا اور گیتا‘، ’چپکے چپکے‘ سمیت کئی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔ ان کی پہلی فلم 1960 میں ریلیز ہوئی جبکہ ان کی آخری فلم ’اکیس‘ دسمبر میں ریلیز ہونا تھی۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران دھرمیندر نے بے شمار اعزازات حاصل کیے جن میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، امریکی ریاست نیو جرسی کا اعزاز اور بھارت کا تیسرا بڑا شہری ایوارڈ ’پدما بھوشن‘ شامل ہیں۔ انہوں نے 2004 میں مختصر عرصے کے لیے سیاست میں بھی قدم رکھا اور بیكانیر سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔
گزشتہ ہفتے گردش کرنے والی ان کی وفات کی خبریں اہل خانہ نے مسترد کی تھیں، تاہم اس بار ان کے انتقال کی تصدیق کے بعد شوبز انڈسٹری، سیاستدانوں اور مداحوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
فلم ساز کرن جوہر نے اداکار کی موت کو "ایک دور کا خاتمہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر بھارتی سنیما کے ہمیشہ کے لیجنڈ رہیں گے۔
اداکار بومن ایرانی نے لکھا کہ انہوں نے کروڑوں لوگوں کو خوشی دی اور آج آنکھوں سے شکرگزاری کے ساتھ آنسو بہہ رہے ہیں۔
مشہور ڈیزائنر منیش ملہوترا نے کہا کہ سنیما کی دنیا نے ایک ناقابلِ فراموش شخصیت کھو دی۔
اداکارہ کاجول نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا ایک اچھے انسان سے محروم ہوگئی۔
اداکار و ہدایتکار فرحان اختر نے کہا کہ دھرمیندر کی محبت، مہربانی اور فن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دھرمیندر کی آخری رسومات کے لیے کریمیٹریم میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے جہاں ان کی اہلیہ ہیما مالنی، بیٹی ایشا دیول سمیت شوبز کی معروف شخصیات امیتابھ بچن، ابھیشیک بچن، عامر خان اور دیگر برجستہ نام پہنچے۔
دھرمیندر کے انتقال سے بھارتی فلم انڈسٹری ایک ایسے عہد سے محروم ہوگئی جس نے نسلوں کو اپنی اداکاری، شخصیت اور فن سے متاثر کیا۔
