اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے جنوبی شام کے دورے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے نقصان دہ اقدام قرار دیا ہے۔ عالمی ادارہ کے مطابق یہ دورہ نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔
نیتن یاہو نے یہ دورہ اس بفر زون کے اندر کیا جو 1974 کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کے تحت شام اور اسرائیل کے درمیان قائم ہے اور جہاں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کی نگرانی جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے پریس بریفنگ میں کہا:
"ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 1947 کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کا احترام کرے۔ یہ دورہ انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی حالیہ منظور شدہ قرارداد 2799 شام کی مکمل خودمختاری، وحدت، آزادی اور علاقائی سالمیت کی توثیق کرتی ہے۔ یہ مؤقف اقوامِ متحدہ کی ڈپٹی ایلچی نجات روشدی نے شامی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ملاقات میں بھی دہرایا۔
دوسری جانب شامی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے دورے کو “غیر قانونی، اشتعال انگیز اور شام کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔ دمشق کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور 1974 کے معاہدے دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ بشار الاسد حکومت کے اختتام (2024) کے بعد اسرائیلی فوج نے مقبوضہ گولان کی حدود سے بڑھتے ہوئے بفر زون کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا، جو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
شامی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 سے اب تک اسرائیل شام میں 1,000 سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زیادہ زمینی کارروائیاں کر چکا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
