سچل پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے معصوم بچے کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی کے مطابق ملزم کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا نیتن یاہو کے جنوبی شام کے دورے پر شدید احتجاج، شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار
گرفتار ملزم کی شناخت محمد یاسین کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق 2 نومبر 2025 کو سپر ہائی وے سچل موڑ کے قریب گاوٴں جانے والے مسافروں کو دو مسلح ملزمان نے لوٹنے کی کوشش کی، جس پر مسافروں نے مزاحمت کی۔
مزاحمت کے دوران ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 12 سالہ حسنین جاں بحق جبکہ علی اکبر زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ڈی آئی جی ایسٹ کے مطابق ملزم کے خلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور دورانِ تفتیش ملزم نے اس واردات سمیت درجنوں دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ اس کے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

