شائع غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سات سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی لان میں فوجی گارڈ آف آنر، توپوں کی سلامی اور جنگی طیاروں کی فلائی پاسٹ کے ساتھ ان کا بھرپور استقبال کیا۔
پاکستانی فضائی حدود کی بندش ایئر انڈیا نے چین سے سنکیانگ کی فضائی گزرگاہ کھولنے کی درخواست کر دی
یہ دورہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کے درمیان اس اہم تعلق کو اجاگر کرتا ہے، جسے ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں خصوصی ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب صحافی جمال خاشقجی قتل کیس پر عالمی ردعمل بتدریج کم ہوچکا ہے۔
ولی عہد نے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے 2018 میں قتل کو ’’ایک بہت بڑی غلطی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ تکلیف دہ تھا اور سعودی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔
اس موقع پر ٹرمپ نے شہزادے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے خاشقجی کو ’’انتہائی متنازع شخص‘‘ کہا اور قتل سے متعلق سوال پر رپورٹر کو جھڑک دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ شہزادہ اس واقعے سے لاعلم تھے اور ’’جو کچھ ہوا، وہ ہوا‘‘۔
خاشقجی کو 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا تھا جس سے عالمی سفارتی بحران پیدا ہوا۔ سعودی حکام نے بعد ازاں اسے قیادت سے ہٹ کر ’’بغاوتی کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کے آغاز پر محمد بن سلمان کو ’’بہت اچھا دوست‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں ’’ناقابل یقین‘‘ اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ سعودی عرب کو جدید امریکی اے آئی چِپس کی فروخت کی منظوری پر کام کر رہے ہیں، جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ابراہم معاہدوں پر بھی بات ہوئی۔
اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے فلسطینی ریاست کا واضح راستہ ضروری: محمد بن سلمان
ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ٹرمپ کے ابراہم معاہدوں کے تحت معمول پر لانا چاہتا ہے، لیکن اس سے پہلے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب واضح اور محفوظ راستہ ضروری ہے۔
اوول آفس میں ٹرمپ کے ہمراہ بیٹھے محمد بن سلمان نے کہا:
’’ہم ابراہم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے دو ریاستی حل کا واضح راستہ یقینی ہونا چاہیے۔‘‘
اس دوران ٹرمپ نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ان کے خاندان کے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے باعث کوئی مفاداتی ٹکراؤ موجود ہے۔
ولی عہد کا یہ دورہ تقریباً سرکاری ریاستی دورے جیسا رہا۔ وہ کابینہ روم میں دوپہر کے کھانے میں شریک ہوئے اور بعد ازاں ایک بلیک ٹائی ڈنر میں شرکت کی۔
