پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد علی شاہ نے تعلیمی اداروں میں بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم تجویز وفاقی حکومت کو ارسال کی ہے۔ یہ سفارش صوبائی پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں پیش کی گئی، جسے وفاقی وزارتِ قانون کو بھی بھیجا جائے گا۔
سات سال بعد ولی عہد کا وائٹ ہاؤس کا طاقتور استقبال خاشقجی قتل دفاعی معاہدے اور ابراہم اکورڈز پر اہم بات چیت
خط میں کہا گیا ہے کہ نادرا کے پاس جنسی جرائم پیشہ افراد کا ملک گیر ڈیٹا بیس موجود ہے، جو جنسی تشدد کے خلاف جنگ اور معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق اس کی مکمل صلاحیت ابھی تک روک تھام کے اقدامات میں استعمال نہیں کی جا رہی، خصوصاً تعلیمی اداروں میں جہاں بچے سب سے زیادہ خطرے کا سامنا کرتے ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ تعلیمی اداروں میں اس اہم خلا کو پُر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہائرنگ اتھارٹیز اساتذہ، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی بھرتی مکمل کرنے سے قبل نادرا کے سیکس آفینڈرز ڈیٹا بیس سے کردار کی لازمی تصدیق کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ تصدیق نہ صرف نئی بھرتیوں بلکہ موجودہ عملے پر بھی لاگو ہونی چاہیے، اور وزارتِ قانون اسے بھرتی کا ’’ناقابلِ مذاکرات‘‘ حصہ قرار دے۔
خط میں وفاقی و صوبائی محکمۂ تعلیم سمیت تمام جامعات، کالجوں اور اسکولوں کی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے انسدادِ ریپ (سیکس آفینڈرز رجسٹر) رولز 2023 کے اجرا کو سراہا، جو انسدادِ ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت نافذ ہوئے۔ اس ایکٹ نے ریپ کی تعریف وسیع کرنے، مقررہ وقت میں ٹرائل یقینی بنانے، اور گواہان کے تحفظ جیسے اقدامات متعارف کروائے، جو متاثرین کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوئے۔
اپنے خط میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ادارے بچوں کی سیکھنے اور نشوونما کے لیے محفوظ ترین مقامات ہونے چاہئیں۔ موجودہ بھرتی نظام تعلیمی قابلیت، تجربے اور بیک گراؤنڈ چیک تک محدود ہے، جو کسی فرد کے جنسی جرائم کے ماضی کو ظاہر نہیں کرتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس خلا کے ذریعے کوئی سزا یافتہ جنسی مجرم طلبہ پر اختیار رکھنے والی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نادرا کے ڈیٹا بیس کے ذریعے لازمی تصدیق کا نظام نہ صرف اداروں کو محفوظ بنائے گا بلکہ انسدادِ ریپ قوانین کے مقاصد سے بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
