27ویں آئینی ترمیم سے نسلہ ٹاور بچ سکتا تھا، نئے صوبوں کی باتیں شوشا ہیں: ناصر حسین شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیرِ بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اگر 27ویں آئینی ترمیم بروقت نافذ ہوجاتی تو نسلہ ٹاور کو مسمار نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے نئے صوبے بنانے کی باتوں کو محض ’’شوشا‘‘ اور ذہنی اختراع قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئی اسمبلیاں، عدالتیں اور انفرااسٹرکچر قائم کرنا مالی طور پر ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کمشنر کراچی کا ملیر ایکسپریس وے کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ، مقررہ مدت میں تکمیل کی ہدایت

وزیرِ بلدیات کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں 70 فیصد حصہ رکھتا ہے لیکن وفاق کی جانب سے شہر کو بی آر ٹی جیسے منصوبے دے کر ٹالا گیا، سو ارب روپے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سستی رہائشی اسکیموں کے لیے آباد کی سفارشات ملتے ہی سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔

اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ سعودی حکومت اور آباد کے درمیان ایم او یو طے پاچکا ہے جس کے تحت سعودی عرب کراچی کے تعمیراتی شعبے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لینڈ ریکارڈ اور پروجیکٹس کی منظوری کے نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے۔

تقریب میں ڈی جی ایس بی سی اے مذمل ہالیپوٹو، محسن شیخانی، سید افضل حمید، طارق عزیز، احمد اویس تھانوی، عبداللہ جان میمن اور دیگر ممبران بڑی تعداد میں شریک تھے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام دوسرے صوبوں سے بہتر ہے اور حکومت تعمیراتی شعبے کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرِ التوا اپروولز فوری جاری کیے جائیں تاکہ عوام کو سستے رہائشی منصوبے بروقت مل سکیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایس بی سی اے سمیت کئی محکموں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور ناجائز طور پر بلڈرز کو تنگ کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام ضروری ہے مگر جائز کاموں میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ صوبائی حکومت صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ بلڈرز بیرونِ ملک منتقل نہ ہوں بلکہ سندھ میں ہی سرمایہ کاری جاری رکھیں۔

چیئرمین آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں ادارہ جاتی رکاوٹیں شدید حد تک بڑھ چکی ہیں جس کے باعث تعمیراتی شعبہ بحران کا شکار ہے۔ قانونی معاملات اور کمرشل پلاٹس کی منتقلی میں غیر معمولی تاخیر سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیمنٹ، اسٹیل اور ٹائلز کی صنعتیں اس وقت صرف 50 فیصد استعداد پر چل رہی ہیں۔

محسن شیخانی نے کہا کہ پٹواری سسٹم اور قبضہ مافیا کھلے عام سرگرم ہیں جبکہ بلڈرز دبئی میں محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں رہائشی منصوبے کی منظوری 10 دن میں مل گئی، مگر کراچی میں ہفتوں لگ جاتے ہیں۔

آخر میں آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے وزیر ناصر حسین شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی میں تعمیراتی شعبے میں بہتری کی امید ہے۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “27ویں آئینی ترمیم سے نسلہ ٹاور بچ سکتا تھا، نئے صوبوں کی باتیں شوشا ہیں: ناصر حسین شاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!