دی اکانومسٹ کی رپورٹ: عمران خان کی تیسری شادی نے طرزِ حکمرانی پر سوالات کھڑے کیے، بشریٰ بی بی کا روحانی اثر فیصلہ سازی میں حاوی تھا

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خان کی تیسری شادی نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ حکومت کے انداز اور فیصلہ سازی پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کے مطابق عمران خان کے قریبی حلقے شکایت کرتے رہے کہ اہم سرکاری فیصلوں پر ’’روحانی مشاورت‘‘ کا سایہ پڑا رہتا تھا، جس کے باعث اصلاحاتی ایجنڈا آگے نہ بڑھ سکا۔

27ویں آئینی ترمیم سے نسلہ ٹاور بچ سکتا تھا، نئے صوبوں کی باتیں شوشا ہیں: ناصر حسین شاہ

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں وہ اپنی ’’روحانی بصیرت‘‘ کے طور پر عمران خان کے سامنے پیش کرتی تھیں، اور جب یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا ان پر اعتماد مزید بڑھ جاتا۔

رپورٹ کے مطابق سابق انٹیلی جنس چیف جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کے اس رسوخ کو “نہایت باریک مگر مؤثر انداز” میں استعمال کیا۔ جریدے نے لکھا کہ ادارہ اپنے ایک افسر کے ذریعے معلومات ایک پیر تک پہنچاتا، جو آگے بشریٰ بی بی تک منتقل کرتا تھا۔

شریک مصنفہ بشریٰ تسکین کی گفتگو
جیونیوز سے گفتگو میں شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے کہا کہ ’’بشریٰ بی بی کا روحانی لبادہ اور عمران خان پر اثرانداز ہونے کا طریقہ کار حیران کن ثابت ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اکثر سیاسی دعوے عملی طور پر پورے نہیں ہوئے، جب کہ پارٹی کے اہم اراکین نے بھی اعتراف کیا کہ ناکامی کی بنیادی وجہ انتظامی کمزوریاں تھیں، نہ کہ وہ اشارے جو عمران خان بعد میں اسٹبلشمنٹ کی جانب دیتے رہے۔

ان کے مطابق کالے جادو اور روحانی اثر سے متعلق مواد بین الاقوامی قارئین تک پہنچانا مشکل تھا، مگر شواہد اور انٹرویوز نے معاملہ واضح کر دیا۔

بشریٰ تسکین نے سابق شوہر خاور مانیکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کو “Evil genius” قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان حکومتی تقرریاں، تبادلے اور روزمرہ فیصلے بھی روحانی اشاروں پر کرتے تھے، جو ایک ایٹمی ملک کے لیے نہایت حیران کن تھا۔

’روحانی طاقت ہوتی تو پی ٹی آئی کا یہ حال نہ ہوتا‘
صحافی کے مطابق اگر بشریٰ بی بی کے پاس اتنی روحانی قوت ہوتی تو نہ عمران خان، نہ ان کی حکومت اور نہ ہی ان کی پارٹی ایسی صورتحال سے دوچار ہوتی۔ ’’انہوں نے سیاسی یا عوامی سطح پر کچھ حاصل نہیں کیا‘‘۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کے حساس معاملات تک رسائی، سرکاری فیصلوں میں مداخلت اور روحانی مشاورت کا کلچر ایک ایسے وقت میں پروان چڑھا جب ملک کو مضبوط فیصلہ سازی کی ضرورت تھی۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “دی اکانومسٹ کی رپورٹ: عمران خان کی تیسری شادی نے طرزِ حکمرانی پر سوالات کھڑے کیے، بشریٰ بی بی کا روحانی اثر فیصلہ سازی میں حاوی تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!