ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے خطاب میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے کالج میں جمع قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے متعدد اعلیٰ عہدیداران—جن میں وہ خود، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار اور وزیر دفاع آصف خواجہ شامل ہیں—افغان حکام سے دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کابل کو بارہا باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کو روکا جائے اور پاکستان کے امن کو سبوتاژ نہ کیا جائے۔
بنوں پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن فتنۃ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی اشاریے اور عالمی تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ’’سرحد پار‘‘ کے عناصر ملک کے اندر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں بھی سرحد پار سے تعلق رکھنے والے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مقامی افراد دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوتے، اور حالیہ مہینوں میں کسی بڑے حملے میں کسی مقامی شہری کا نام سامنے نہیں آیا۔
وزیر داخلہ کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا فرنٹیئر کور (جنوب) کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل مہر عمر خان نے محسن نقوی کا کالج آمد پر استقبال کیا۔
اپنے دورے کے دوران انہوں نے حملہ ناکام بنانے والے فوجی افسران و جوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور کالج کے طلبہ و اساتذہ سے بھی ملاقات کی۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق محسن نقوی نے کالج کی تزئین و آرائش کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثال قائم کرتے ہوئے تمام طلبہ و اساتذہ کی جانیں محفوظ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن آرمی پبلک اسکول جیسے ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، مگر بہادر پاکستانی جوانوں نے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے سازش ناکام بنا دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ درندے انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ کوئی مذہب بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔‘‘
واضح رہے کہ پاکستان کو حالیہ عرصے میں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے امن معاہدہ ختم کیے جانے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں شدت آ گئی ہے۔
