آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کا استعفیٰ الزامات تحقیقات اور پس منظر سامنے آ گیا

خاندانی ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین میں حالیہ ترمیم کے بعد وہ مزید خدمات انجام دینے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو ارسال کر دیا ہے۔

افغانستان سے دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کیا ہے حملوں میں سرحد پار عناصر ملوث ہیں محسن نقوی
جسٹس مرزا 2014 میں ایڈیشنل جج کے طور پر تعینات ہوئے تھے اور ان کی باقاعدہ ریٹائرمنٹ 6 مارچ 2028 کو متوقع تھی۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے تحت ان کا تبادلہ بھی ممکن تھا، جس کے پیش نظر انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی استعفیٰ دے چکے ہیں، جب کہ جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت میں شمولیت سے معذرت کی تھی۔ ترمیم کے مطابق موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدت ملازمت تک منصب پر برقرار رہیں گے، اور بعد از ریٹائرمنٹ چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر سینئر ترین ججوں میں سے ہوگا۔

رواں سال جنوری میں تشکر نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شیراز ذکا نے جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کی تھی۔ الزام تھا کہ جج نے ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی کے حق میں سات سال تک حکمِ امتناع برقرار رکھ کر ایف آئی اے کی تحقیقات روک دیں، جس سے قومی خزانے کو 40 کروڑ روپے سے زائد نقصان ہوا۔

شکایت میں کہا گیا کہ کیس (W.P.No. 6727-17) 2017 سے زیر التوا ہے، پہلے حکمِ امتناع سابق چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے دیا تھا، اور 2018 میں ان کی سپریم کورٹ میں ترقی کے بعد کیس جسٹس شمس مرزا کو منتقل ہوا۔
قانونی افسر کے مطابق جج نے ہر سماعت پر اسٹے آرڈر میں توسیع دی، جبکہ 24 دسمبر 2024 کو فریقین کے دلائل جاری ہونے کے باوجود کیس کو 14 اپریل 2025 تک ملتوی کر دیا گیا۔

اٹارنی جنرل آفس کے جاری کردہ روسٹر سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس کیس میں اے اے جی حمزہ شیخ کی جگہ شیراز ذکا کو خصوصی طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اے اے جی پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جاتا رہا۔

آئینی و عدالتی حلقوں میں جسٹس شمس کے استعفے کو 27ویں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی نئی عدالتی صورتحال اور زیر التوا شکایات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

One thought on “آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کا استعفیٰ الزامات تحقیقات اور پس منظر سامنے آ گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!