سعید غنی: مزدوروں کی خوشحالی کا دارومدار صحت اور تعلیم کی فراہمی پر ہے، ای بائیک و دیگر مراعات کا قانون موجود نہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ مزدوروں اور غریب طبقے کے اصل مسائل صحت اور تعلیم کی فراہمی سے جڑے ہیں۔ اگر انہیں یہ بنیادی سہولیات اعلیٰ معیار پر دستیاب ہوں تو وہ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

گارڈن حادثہ: ڈمپر ڈرائیور کو 30 لاکھ روپے زرِ ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

انہوں نے واضح کیا کہ ای بائیک، سولر چولہے یا دیگر مراعات دینے سے متعلق کوئی قانونی شق موجود نہیں اور نہ ہی یہ کام ورکرز ویلفیئر بورڈ یا محکمہ محنت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی لیبر لا کمیٹی کے تحت منعقدہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران فرید محمود غنی، عبدل مومن، اکرام راجپوت، شبیر مشتاق، امجد قریشی، عمیر راجن، ہمایوں اور دیگر شریک تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ صنعتوں کی ترقی کے بغیر مزدوروں کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم مزدوروں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو صنعتکاروں اور تاجروں کو سہولتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ اپنی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرسکیں۔

وزیر محنت نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ، سیسی اور مائنز اینڈ منرل آرگنائزیشن جیسے ادارے سرکاری فنڈز پر نہیں بلکہ آجر کے کنٹریبیوشن سے چلتے ہیں، جن کی گورننگ باڈیز میں آجر، مزدور اور محکمے کے افسران شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے ان تمام اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی تھی تاکہ مزدوروں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

سعید غنی نے انکشاف کیا کہ حکومت ایک نئے فارمولے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت صنعتوں سے مزدوروں کی تعداد کے بجائے سالانہ ٹرن اوور کے حساب سے کنٹریبیوشن لیا جائے گا، تاکہ تمام مزدور خودبخود رجسٹرڈ ہو جائیں اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو۔

انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو عیش و عشرت نہیں بلکہ صحت اور تعلیم کی اعلیٰ سہولیات درکار ہیں۔ اس مقصد کے لیے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسکولز اور اسپتال قائم کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ متعدد معروف تعلیمی و طبی ادارے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے، تاہم سکھر اور کراچی کی مزدور کالونیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

WhatsApp Image 2025 11 07 at 7.16.24 PM

63 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!