سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی غیر قانونی و خطرناک عمارتوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں، 1622 عمارتیں مسمار

 سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی سمیت صوبے بھر میں خطرناک، بوسیدہ اور غیر قانونی عمارتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ عوامی جان و مال کے تحفظ اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اس مہم کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو کر رہے ہیں، جب کہ یہ اقدامات وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی خصوصی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔

گارڈن حادثہ: ڈمپر ڈرائیور کو 30 لاکھ روپے زرِ ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

سرکاری اعلامیے کے مطابق، رواں ماہ کے آغاز میں سندھ بھر میں خطرناک عمارتوں کا جامع سروے مکمل کیا گیا، جس کے بعد ایسی عمارتوں کی فوری مسماری کے احکامات جاری کیے گئے۔

ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ ادارے کی اولین ترجیح شہریوں کو غیر قانونی اور بوسیدہ عمارتوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "کسی شہری کو بوسیدہ عمارت کے گرنے سے جان نہیں گنوانی چاہیے، اس لیے ایس بی سی اے کی ٹیمیں قوانین پر عملدرآمد اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات سرگرم ہیں۔”

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے 5 نومبر 2025 تک سندھ بھر میں مجموعی طور پر 1622 کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں 153 کارروائیاں جنوری، 110 فروری، 146 مارچ، 179 اپریل، 135 مئی، 121 جون، 240 جولائی، 171 اگست، 159 ستمبر، 185 اکتوبر اور نومبر کے ابتدائی پانچ دنوں میں 23 کارروائیاں شامل ہیں۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ عوامی تحفظ ایس بی سی اے کا بنیادی مشن ہے، اور بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد میں کسی قسم کی نرمی یا امتیاز نہیں برتا جائے گا۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں غیر قانونی یا خطرناک تعمیرات کی اطلاع قریبی ایس بی سی اے دفتر کو دیں، تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ڈی جی نے کہا کہ "ایک محفوظ، منظم اور منصوبہ بند کراچی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہمیں مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے مستقبل کی تمام تعمیرات قانونی اور محفوظ ہوں۔”

WhatsApp Image 2025 11 07 at 7.13.58 PM 1

WhatsApp Image 2025 11 07 at 7.14.00 PM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!