v
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے زیرِ انتظام مقامی ہوٹل میں غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے حوالے سے مشاورتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اجلاس سندھ سی وی ای، پی پی اے ایف اور مختلف سماجی تنظیموں کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں صوبہ سندھ میں غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
کراچی میں تین رکنی ڈکیت گروہ گرفتار، دفاع میں سیکیورٹی گارڈ کے قتل میں بھی ملوث
مشاورتی اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ دراصل قومی سلامتی اور سماجی استحکام سے جڑا ہوا ہے، اور اس مقصد کے لیے حکومتی و نجی شعبوں کا اشتراک ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی ترجیحات میں پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح سرفہرست ہیں۔ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سندھ امن کی دھرتی ہے، ہمیں صوفیائے کرام کے طرزِ زندگی کو اپنانا ہوگا، کیونکہ صوفی ازم ہی اس خطے کا اصل اثاثہ اور تمام مسائل کا حل ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ڈکیتی، غربت، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی جرائم کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں 71 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے، جن کے لیے خصوصی بحالی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے زور دیا کہ سماجی تنظیموں اور فلاحی اداروں کو عوامی فلاح اور غربت کے خاتمے کے لیے حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کو سوشل میڈیا کے منفی تاثر کے تابع کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مشاورتی نشست میں شریک مختلف سول سوسائٹی تنظیموں اور ماہرین نے غربت میں کمی، تعلیم، صحت اور روزگار کے فروغ سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
اس موقع پر سی وی ای، پی پی اے ایف اور سی ایس اوز نے عوامی شمولیت پر مبنی فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا تاکہ غربت کے خاتمے کے لیے جامع اور مؤثر لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔
