اسرائیلی خاتون پراسیکیوٹر فلسطینی قیدی کی ویڈیو لیک کرنے پر گرفتار

اسرائیلی پولیس نے سابق خاتون ملٹری پراسیکیوٹر یفات تومر-یروشلمی کو ایک فلسطینی قیدی کے جنسی استحصال کی ویڈیو لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام اس اسکینڈل کے بعد سامنے آیا جب ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں فوجیوں کو فلسطینی قیدی کے ساتھ بدسلوکی کرتے دکھایا گیا تھا۔

شاہین شاہ آفریدی: کپتانی بنانا یا ہٹانا پی سی بی کا معاملہ ہے، ہمارا کام کرکٹ کھیلنا ہے

یفات تومر-یروشلمی نے اتوار کے روز استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک لاپتا رہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں ان کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ تاہم بعدازاں رپورٹ سامنے آئی کہ وہ ممکنہ طور پر اپنے موبائل فون سے حساس معلومات مٹانے کے لیے غائب ہوئیں۔

ان کے استعفے کے خط میں اعتراف کیا گیا تھا کہ ان کے دفتر نے پچھلے سال یہ ویڈیو میڈیا کو فراہم کی تھی۔ اس ویڈیو کے لیک ہونے کے بعد پانچ ریزروسٹ فوجیوں پر فردِ جرم عائد کی گئی جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک فلسطینی قیدی کو "نوکیلے آلے” سے جنسی طور پر زخمی کیا۔

اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے بتایا کہ تومر-یروشلمی کی گرفتاری کے بعد جیل حکام کو ان کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی جائے گی تاکہ معاملے کی اصل حقیقت سامنے آسکے۔

یہ کیس اگست 2024 میں اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی چینل 12 نے سدی تیمن فوجی اڈے کی فوٹیج نشر کی تھی، جہاں غزہ جنگ کے دوران گرفتار فلسطینیوں کو رکھا گیا تھا۔ فوٹیج میں فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا۔

فوج نے بعدازاں تصدیق کی کہ متعلقہ فوجیوں نے قیدی کو بدترین جسمانی اذیت دی، جس کے نتیجے میں اس کے پسلیاں ٹوٹ گئیں، پھیپھڑا زخمی ہوا اور مقعد کے قریب سنگین زخم آئے۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے اکتوبر 2024 میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی فوجی کیمپوں میں منظم تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو "جنگی جرائم” اور "انسانیت کے خلاف جرم” کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

One thought on “اسرائیلی خاتون پراسیکیوٹر فلسطینی قیدی کی ویڈیو لیک کرنے پر گرفتار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!