کراچی — پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایک خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق، بھارتی ایجنسی نے ایک پاکستانی مچھیرا اعجاز ملاح کو رینجرز، نیوی اور پاک فوج کی وردیاں اور دیگر سامان خرید کر بھارت اسمگل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ تاہم، سیکیورٹی اداروں نے نگرانی کے دوران کارروائی کرتے ہوئے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
رینجرز کی لیاری میں بڑی کارروائی — وصی اللہ لاکھو گروپ کا انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر اسلحے سمیت گرفتار
ذرائع کے مطابق، ملزم سے مسلح افواج کی وردیاں، نام کی پٹیاں، موبائل سم کارڈز، سگریٹ، لائٹرز اور پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔ یہ سامان وہ کشتی کے ذریعے بھارت منتقل کرنے والا تھا۔
تحقیقات کے دوران ملزم اعجاز ملاح نے انکشاف کیا کہ وہ ایک غریب مچھیرا ہے جسے ستمبر 2025 میں بھارتی کوسٹ گارڈ نے گہرے پانیوں میں گرفتار کیا۔ بعد ازاں بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں نے اسے دھمکی اور لالچ دے کر اپنے لیے کام کرنے پر مجبور کیا۔ اسے کہا گیا کہ اگر وہ پاکستان میں ان کے لیے کام کرے گا تو اسے قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
ملزم نے اقرار کیا کہ بھارتی ایجنٹس نے اسے ہدایت دی کہ پاکستان پہنچ کر فوجی وردیاں، نام کی پٹیاں، زونگ سم کارڈز اور مقامی اشیاء خریدے، اور پھر یہ سب کشتی کے ذریعے بھارت بھیجے۔ اس نے کراچی کی مختلف دکانوں سے مطلوبہ سامان حاصل کرکے اس کی تصاویر بھارتی ایجنسی کو بھیجیں، جس پر اسے 95 ہزار روپے ادا کیے گئے۔
اکتوبر 2025 کے آغاز میں جب وہ یہ سامان بھارت پہنچانے جا رہا تھا، پاکستانی اداروں نے مشترکہ آپریشن میں اسے حراست میں لے لیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ سازش بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں میں کسی جعلی کارروائی (False Flag Operation) کے لیے رچی گئی تھی، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی ایجنسی کا مقصد “میڈ اِن پاکستان” اشیاء، فوجی وردیاں اور کرنسی نوٹ استعمال کر کے ایک جعلی مقابلے کا تاثر دینا تھا، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔
پاکستان نے اس سازش کے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور یہ مواد بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔
