امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے قریب؟ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار، حتمی جواب کے منتظر

امریکی حکام اور White House کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے، جسے خطے میں ممکنہ بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پشاور میں امریکی قونصل خانہ مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین اس وقت کسی بھی سابقہ مرحلے کے مقابلے میں معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، جس کے بعد پیش رفت کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، تاہم سابق صدر Donald Trump کے قریبی مشیر Jared Kushner اور Steve Witkoff ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثی ذرائع کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔

مجوزہ معاہدے کے اہم نکات

ذرائع کے مطابق 14 نکاتی مجوزہ فریم ورک میں اہم شقیں شامل ہیں:

جنگ کا خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔

30 دن کی مہلت: معاہدے کے بعد 30 روز کے اندر Islamabad یا Geneva میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

آبنائے ہرمز: Strait of Hormuz میں جہاز رانی پر عائد پابندیاں اور امریکی بحری محاصرہ مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

ایٹمی پروگرام: ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم افزودگی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کی مدت چاہتا ہے۔

افزودہ یورینیئم کی منتقلی: ایران کی جانب سے اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جسے پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز جاری کرنے اور اقتصادی پابندیوں میں بتدریج نرمی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

چیلنجز اور خدشات

امریکی حکام کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر مختلف دھڑے موجود ہیں، جس کی وجہ سے کسی حتمی اتفاق رائے تک پہنچنا ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے صورتحال کو “انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی” قرار دیتے ہوئے سفارتی حل کی امید ظاہر کی، تاہم بعض ایرانی حلقوں پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکا دوبارہ بحری محاصرہ سخت کرنے اور ممکنہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مفاہمتی یادداشت عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

One thought on “امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے قریب؟ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار، حتمی جواب کے منتظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!