کوالالمپور: امریکا اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، جسے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
سندھ میں ڈینگی کیسز میں اضافہ، 24 گھنٹوں میں 1558 نئے مریض رپورٹ — ٹیسٹ فیس میں نمایاں کمی کا اعلان
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کوالالمپور میں اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر بیان میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور دفاعی توازن کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، معلومات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کے اشتراک میں اضافہ ہوگا، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق یہ معاہدہ دونوں افواج کے درمیان قابلِ اعتماد شراکت داری کو فروغ دے گا اور مستقبل میں زیادہ گہرے دفاعی تعلقات کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ ملاقات آسیان ڈیفینس سمٹ کے دوران ہوئی، ایسے وقت میں جب امریکا اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی دیکھی گئی۔ یاد رہے کہ اگست میں امریکا نے بھارت کی روس سے تیل کی خریداری پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا۔
ان محصولات کے بعد بھارت نے امریکی دفاعی سازوسامان کی خریداری عارضی طور پر روک دی تھی، تاہم آج ہونے والی ملاقات میں دونوں وزراء نے دفاعی خریداری کے منصوبوں پر نظرِثانی اور تعاون کی بحالی پر بھی اتفاق کیا۔
