کراچی: محکمہ صحت سندھ نے صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5742 ٹیسٹوں میں سے 1558 مثبت آئے، صوبے بھر میں ڈینگی کی شرح 27 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
کورنگی میں پولیس مقابلہ، دو اسٹریٹ کرمنلز گرفتار، اسلحہ، نقدی اور موبائل فون برآمد
رپورٹ کے مطابق کراچی ڈویژن میں 4010 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 758 کیسز مثبت آئے، جبکہ حیدرآباد ڈویژن میں 1732 ٹیسٹوں میں سے 800 کیسز سامنے آئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 81 مریض سرکاری اور 68 مریض نجی اسپتالوں میں داخل ہوئے، جبکہ 83 مریض صحتیاب ہوکر گھر واپس گئے۔
محکمہ صحت کے مطابق دو اموات بھی رپورٹ ہوئیں، اس وقت صوبے بھر میں 201 مریض سرکاری اسپتالوں اور 180 مریض نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈینگی مریضوں کے لیے 895 بیڈز سرکاری اسپتالوں اور 329 بیڈز نجی اسپتالوں میں مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی میں 36 لیبارٹریز، جن میں 13 سرکاری اور 23 نجی شامل ہیں، ڈینگی ٹیسٹنگ کر رہی ہیں جبکہ حیدرآباد میں 18 لیبارٹریز فعال ہیں۔
سیکریٹری محکمہ صحت ریحان بلوچ کے مطابق رواں ماہ صوبے بھر میں 2090 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی ڈویژن میں 1005، حیدرآباد میں 938، میرپورخاص میں 114، سکھر میں 13، شہید بینظیرآباد میں 14 اور لاڑکانہ میں 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ریحان بلوچ نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ڈینگی، ملیریا اور سی بی سی ٹیسٹوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
-
ڈینگی ٹیسٹ: 3450 سے کم ہوکر 1100 روپے
-
ڈینگی کومبو ٹیسٹ: 4150 سے کم ہوکر 1500 روپے
-
ملیریا ٹیسٹ: 3000 سے کم ہوکر 600 روپے
-
فالواپ سی بی سی ٹیسٹ: 1250 سے کم ہوکر 500 روپے
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈینگی کے تمام کیسز کی مکمل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں انسدادِ ڈینگی مہم جاری ہے، تمام اضلاع میں اسپرے، فاؤگنگ اور نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی علاقے میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے تاکہ مچھر کی افزائش روکی جا سکے۔
