آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے حیدرآباد میں پہلے کمیونٹی پولیسنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کر دیا

حیدرآباد (نمائندہ خصوصی) — جاوید عالم اوڈھو نے حیدرآباد میں پہلے کمیونٹی پولیسنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جسے جدید الیکٹرانک سرویلنس اور اسمارٹ پولیسنگ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کراچی واٹر کارپوریشن اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے درمیان معاہدہ، گھارو اور پپری پمپنگ اسٹیشنز کی جدید کاری کا آغاز

یہ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کمیونٹی پولیسنگ کراچی (CPK) اور حیدرآباد رینج کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایس ایس پی آفس حیدرآباد میں قائم کیا گیا ہے، جہاں جدید سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے شہر کی نگرانی کی جائے گی۔

افتتاحی تقریب میں ڈی آئی جی و ایس ایس پی حیدرآباد، کمشنر و ڈپٹی کمشنر حیدرآباد، چیئرمین کینٹونمنٹ بورڈ، پاکستان رینجرز سندھ کے سیکٹر کمانڈر، تاجربرادری، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران آئی جی سندھ کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام، اس کے اغراض و مقاصد، جدید ٹیکنالوجی اور آپریشنل نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ سی پی کے کی جانب سے جدید کیمروں کی تنصیب اور شجرکاری مہم پر مبنی خصوصی ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے بانی مراد سونی نے کہا کہ “سندھ دھرتی نے ہمیں بہت کچھ دیا، اب اسے لوٹانے کا وقت ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی کے بعد حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جائے گی۔

مراد سونی کے مطابق حیدرآباد سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 200 جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ ہر نئی سڑک کے پی سی ون میں سیکیورٹی فیچرز اور نگرانی کے کیمرے لازمی شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹو بان روڈ، قاسم چوک انڈر پاس اور شہباز چوک سمیت نئے ترقیاتی منصوبوں میں کیمروں کی تنصیب سرکاری طور پر شامل کی جا چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد رنگ روڈ منصوبہ بھی جدید مانیٹرنگ سسٹم اور اسمارٹ سرویلنس سے لیس ہوگا جبکہ اگلے مرحلے میں جامشورو اور حیدرآباد کے لیے مشترکہ جدید 15 ہیلپ لائن سینٹر قائم کیا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ جدید دنیا میں جرائم پر قابو پانے کے لیے روایتی ناکوں کے بجائے ٹیکنالوجی، اسمارٹ پیٹرولنگ اور الیکٹرانک سرویلنس ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیشل ریکگنیشن اور جدید کیمروں کی مدد سے مطلوب افراد اور مشکوک گاڑیوں کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 1300 اسٹیٹ آف دی آرٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 2200 کیمرے لگائے جائیں گے۔ ان کے مطابق کراچی میں بزنس کمیونٹی کے تعاون سے 40 ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعلقہ علاقوں میں جرائم کی شرح میں 35 سے 40 فیصد تک کمی آئی جبکہ جرائم کی ڈیٹیکشن ریٹ 50 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بھی لندن اور دبئی کی طرز پر 3 سے 5 منٹ کے اندر پولیس رسپانس یقینی بنایا جائے گا اور اسمارٹ پولیسنگ کے ذریعے نان کسٹم پیڈ (NCP) اور چوری شدہ گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

آئی جی سندھ نے مراد سونی اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے شہریوں کی شمولیت اور اونرشپ انتہائی ضروری ہے۔

تقریب کے اختتام پر آئی جی سندھ نے نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد میں اسناد بھی تقسیم کیں

One thought on “آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے حیدرآباد میں پہلے کمیونٹی پولیسنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!