جنوبی کوریا کے ساحلی شہر بوسان میں ہونے والی ملاقات میں امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے پر بات چیت کی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی 2019 کے بعد پہلی دوبدو ملاقات تھی، جو ٹرمپ کے ایشیا کے حالیہ دورے کا آخری مرحلہ قرار دی جا رہی ہے۔
افغانستان بھارتی پراکسی بن چکا بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے خواجہ آصف
رپورٹ کے مطابق ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ نے شی جن پنگ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا:
“اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ملاقات بہت کامیاب رہے گی، البتہ وہ ایک سخت مذاکرات کار ہیں۔”
دوسری جانب شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان کبھی کبھار اختلافات ہونا معمول کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے بنیادی خدشات کے حل پر ابتدائی اتفاق کر لیا ہے، اور وہ ٹرمپ کے ساتھ چین-امریکا تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
ایپک (APEC) اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ بات چیت کے بعد ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ان کی گاڑی تک چھوڑا اور انہیں سرخ قالین پر رخصت کیا گیا۔ تاہم دونوں ممالک نے ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ملاقات کے اثرات عالمی منڈیوں پر فوری طور پر نمایاں ہوئے — چینی اسٹاک مارکیٹ 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ یوآن کی قدر میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ تجارتی تنازعات میں نرمی آئے گی۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ "جی ٹو جلد ملاقات کرنے والے ہیں”، جبکہ بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا جوہری ہتھیاروں کے تجربات میں اضافہ کرے گا، اگرچہ اس پر مزید وضاحت نہیں دی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ چین نے نایاب معدنیات کی برآمدی پابندیاں ایک سال کے لیے مؤخر کرنے اور امریکی کسانوں سے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ دونوں فیصلے ایک بنیادی فریم ورک کے تحت ممکنہ تجارتی سمجھوتے کا حصہ ہیں، جسے دونوں رہنما آئندہ حتمی شکل دیں گے۔
دوسری جانب چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں اور امریکا کی طرف سے 100 فیصد اضافی محصولات کی دھمکی نے ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
ٹرمپ نے ملاقات میں فینٹانائل کے خام کیمیکل کی ترسیل روکنے کا وعدہ بھی بیجنگ سے مانگا، جو امریکا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس پر پیش رفت ہوئی تو وہ چینی مصنوعات پر محصولات میں نرمی پر غور کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ملاقات میں ٹک ٹاک کے مسئلے پر بھی بات ہوئی، اور اگر اس کے چینی مالکان نے امریکی شاخ فروخت نہ کی تو ایپ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
تائیوان کے معاملے پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ایچ-6 بمبار طیاروں نے تائیوان کے قریب فوجی مشقیں کیں، جس پر واشنگٹن نے تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ تائیوان کو چین-امریکا مذاکرات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکا قانونی طور پر تائیوان کے دفاع کا پابند ہے۔
