وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان اب بھارتی پراکسی بن چکا ہے، اور بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحد سے کسی قسم کی خلاف ورزی ہوئی تو مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔
علیمہ خان کے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک عدالت کا ضامن کو جیل بھجوانے کا حکم
یہ بات انہوں نے العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی، جو بدھ کی رات جاری ہوا۔ ان کے یہ بیانات حالیہ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی جھڑپوں اور طالبان حکام سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کابل حکومت پر ان کی مسلسل تنقید کا تسلسل ہیں۔
انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس کیا شواہد ہیں جن کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نئی دہلی نے دوحہ اور ترکی میں طالبان نمائندوں سے مذاکرات کے دوران “پتلی تماشا” چلایا، تو وزیر دفاع نے کہا:
“جب وقت آئے گا تو ہم اپنے ثبوت پیش کریں گے، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے وقت افغان وزیرِ خارجہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے دورے پر تھے، جو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اور ان کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت دراصل افغان سرزمین سے اپنی پچھلی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تقریباً 5 یا 6 ماہ قبل ہونے والی جھڑپ میں بھارت کے 7 طیارے گرائے گئے تھے، جس کا ذکر امریکی صدر نے بھی متعدد مواقع پر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں مقبوضہ کشمیر کے واقعے کے بعد کشیدگی بڑھی، جس کے نتیجے میں چار روزہ فضائی تصادم ہوا، جو امریکی مداخلت کے بعد 10 مئی کو ختم ہوا۔
جب میزبان نے خواجہ آصف کے “بھارت کی پراکسی جنگ” والے بیان کو جرأت مندانہ قرار دیا تو وزیر دفاع نے جواب دیا:
“کیا آپ چاہتے ہیں میں یہ بیان دہرا دوں؟ میں بلا جھجھک ایسا کر سکتا ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ کابل اور نئی دہلی کے تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں، اور یہ تعلقات ہمیشہ پاکستان کے نقصان میں گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی سمت سے سرحد پار مداخلت ہوئی تو:
“ہم اندر جا کر حساب برابر کریں گے۔”
غزہ کے معاملے پر سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اگر ضرورت ہوئی تو بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بننے کو تیار ہے تاکہ امن، استحکام اور بحالی کے عمل میں مدد کی جا سکے۔
آخر میں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہائپرسونک میزائل تجربے کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ:
“یہ محض قیاس آرائی ہے، اس میں کوئی صداقت نہیں۔”
